قاہرہ:13/دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مصر کی وزارت داخلہ نے دو روز قبل قاہرہ میں العباسیہ کے تھڈرل چرچ میں ہونے والے خوفناک دھماکے کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں چرچ کی عمارت کو دھماکے کے بعد دھویں اور مٹی کے غبار میں گھرے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں چرچ میں موجود 25افراد ہلاک اور 30زخمی ہوگئے تھے۔ مصری وزارت داخلہ نے خفیہ کیمروں میں محفوظ ہونے والے دھماکے کے مناظر جاری کیے ہیں۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان جس نے سیاہ جیکٹ اور نیلے رنگ کی جینز کی پتلون پہن رکھی ہے تیزی کے ساتھ چرچ کے دعائیہ ہال میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک انتظامی محافظ بھی اس کے ساتھ چرچ میں جاتا ہے۔ غالبا سیکیورٹی اہلکار مشتبہ شخص کو اندر جانے سے روکنے کے لیے اس کے پیچھے گیا مگر اس کے روکنے سے قبل ہی خود کش بمبار محمود شفیق نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔مصری سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چرچ میں بم دھماکے کے لیے 12کلو گرام وزنی بارد استعمال کیا گیا تھا۔ دھماکہ ہوتے ہی چرچ کا ملبہ اور انسانی اعضاء فضاء میں بکھر گئے۔مشتبہ دہشت گرد کے پیچھے جانے والے سیکیورٹی اہلکار کی میت بھی خود کش بمبار کی لاش کے قریب سے ملی ہے۔ دہشت گرد بمبار نے دعائیہ ہال میں داخل ہوتے ہی خود کو دھماکے سے اڑایا دیا تھا۔